- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں تعمیر نو کیلئے امریکا 10ارب ڈالر دیگا،ہم غزہ کے لوگوں کیلئے روشن مستقبل چاہتے ہیں، اقوام متحدہ بہت اہم ہے اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کریگی، 10دن میں ایران کے بارے میں پتہ چل جائے گا، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، معاہدہ نہ کیا تو نتائج برے ہوں گے،میں نے8جنگیں ختم کرائیں، نویں جنگ خاتمے کے قریب ہے،پاک بھارت جنگ کے دوران وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے، پاکستان کے فیلڈ مارشل عظیم شخص اور بہترین فائٹر ہیں۔جمعرات کوواشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی۔ اجلاس میں چین، روس، برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین موجود نہیں تھے۔ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں اجلاس شروع ہونے سے پہلے صدر ٹرمپ کے ساتھ عالمی سربراہان کا گروپ فوٹو ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ غزہ کی تعمیر نو اور غزہ میں استحکام کیلئے ممالک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، غزہ کی تعمیر نو کیلئے 7ارب ڈالر سے زائد دئیے جا چکے ہیں، غزہ میں تعمیر نو کیلئے امریکا 10ارب ڈالر دیگا، فیفا غزہ میں منصوبوں کیلئے 75ملین ڈالر جمع کرنے میں مددے کریگا، ایسا غزہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جس پر مناسب طریقے سے حکومت ہو، یہ نہیں سوچیں کہ جنگ کیلئے فوج بھیجنی ضروری ہوگی، ایسا لگ رہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار چھوڑ دیگی، غزہ اب مزید انتہاپسندی اور دہشت گردی کا گڑھ نہیں رہیگا۔ امریکی صدر نے کہاکہ قوام متحدہ سربراہ انتونیو گوتریس سے بات کروں گا، اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اقوام متحدہ قابل عمل رہے، اقوام متحدہ بہت اہم ہے اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرے گی، غزہ کیلئے اقوام متحدہ امدادی دفتر 2ارب ڈالر جمع کر رہا ہے، چین اور روس بھی اس میں شامل ہوں گے۔ٹرمپ نے کہاکہ دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں ہے، پائیدار امن کیلئے غزہ پیس بورڈ اہم فورم ہے، ہمارے پیس بورڈ کی طرح مضبوط اور اہم دوسراکوئی بورڈ موجود نہیں، غزہ پیس بورڈ میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہوئے ہیں، اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے پیس بورڈ کا کوئی متبادل نہیں، ہم غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے کہاکہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت ہو رہی ہے، بامعنی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائیگی، مشرق وسطی میں امن کیلئے ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دیں گے، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں گے تو خطے میں امن ممکن نہیں ہوگا،