وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کی نمائندگی کرتے ہوئے بنگلادیش کے نومنتخب وزیراعظم طارق رحمان سے ان کی حلف برداری کی تقریب کے بعد خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر احسن اقبال نے پاکستانی قیادت کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور وزیراعظم طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دی۔وفاقی وزیر نے بنگلادیش میں پْرامن انتقالِ اقتدار کو جمہوری استحکام کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان باہمی احترام اور مشترکہ تاریخ کی بنیاد پر بنگلادیش کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم طارق رحمان نے پاکستان کی خیرسگالی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بنگلادیش کی بڑی نوجوان آبادی ایک "سنہری موقع" ہے جسے مہارتوں اور ڈیجیٹل معیشت میں سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی کا انجن بنایا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت، ساحلی بندرگاہوں کے ذریعے بحری روابط کی بہتری اور سپلائی چین کے انضمام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔احسن اقبال نے ”بنگلادیش-پاکستان نالج کاریڈور“ کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین جلد ڈھاکہ کا دورہ کریں گے۔ اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تحقیق، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ٹوئننگ پروگرامز کو فروغ دینا ہے۔ملاقات میں فکری روابط کو مضبوط کرنے کے لیے ڈھاکہ میں اقبال اکیڈمی کو دوبارہ فعال کرنے کی تجویز دی گئی۔ احسن اقبال نے تجویز پیش کی کہ اگلے سال شاعرِ مشرق علامہ اقبال کی 150 ویں سالگرہ ڈھاکہ میں مشترکہ طور پر منائی جائے، تاکہ ان کے اتحاد اور خودی کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ جنوبی ایشیا کو 'جیو پولیٹکس' کے بجائے 'جیو اکنامکس' کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں سارک کو فعال بنانے اور علاقائی تجارتی سہولت کاری کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا تاکہ خطے کے ایک چوتھائی انسانوں کے لیے خوشحالی کے دروازے کھل سکیں۔وزیراعظم طارق رحمان نے پاکستان کے اپنے سابقہ دوروں اور نواز شریف سے اپنی والدہ مرحومہ خالدہ ضیاء کے ہمراہ ملاقاتوں کو نہایت خوشگوار قرار دیا اور پاکستانی قیادت کے لیے اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا