عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کو تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاریوں نے ممکنہ فوجی کشیدگی کے خدشات کو کم کر دیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے اعلان نے عالمی معاشی نمو اور ایندھن کی طلب پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 75 سینٹ یا 1.05 فیصد کمی کے بعد 71.01 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 74 سینٹ یا 1.11 فیصد کمی سے 65.74 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو اعلان کیا کہ وہ امریکی درآمدات پر عائد عارضی ٹیرف کو 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے سرمایہ کاروں میں محتاط رویہ دیکھنے میں آیا، جس کا اثر سونے اور امریکی ایکویٹی فیوچرز کی قیمتوں پر بھی پڑا اور خام تیل کی قیمتیں دباؤ میں رہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کے تیسرے دور کی خبر نے کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے، جس سے منڈی کو کچھ استحکام ملا ہے۔
Leave a Reply
Cancel ReplyPopular News
VOTE FOR CHAMPION
Who is the world cup winner of 2023
Recent News
Get Latest News
Subscribe to our newsletter to get the latest news and exclusive updates.
Top Categories
-
Politics
11
-
Uncategorized
10
-
World News
7
-
Business and Finance
6