نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے پیر کو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں جلد از جلد پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔ وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے گفتگو کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بات چیت میں مقبوضہ مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی صورتحال بھی زیرِ بحث آئی۔ بیان میں مزید کہا گیا، ”نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کو اپنی اولین سہولت کے مطابق پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔“ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ اس کے کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران پر مجوزہ بڑے فضائی حملے مؤخر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خطے کے کئی ممالک اور خود تہران کی درخواست پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا کہ اس وقت اس کی صرف عمان کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جس میں عالمی توانائی تجارت کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ایران نے ہی مذاکرات کی درخواست کی تھی، بلکہ ”بعض لوگ تو کہیں گے کہ اس نے گڑگڑا کر درخواست کی“، لیکن اب وہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کے بارے میں ”روایتی بے بنیاد دعوے“ کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا، ”آبنائے ہرمز پہلے ہی مکمل طور پر امریکی بحریہ کے کنٹرول میں ہے اور ہماری بحری ناکہ بندی، یا جیسا کہ بعض لوگ اسے ’امریکا کی فولادی دیوار‘ کہتے ہیں، برقرار ہے۔ ہماری اجازت کے بغیر ایران تک کچھ نہیں پہنچ سکتا، اور نہ ہی اس وقت تک کچھ پہنچے گا جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یا ایران مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔“
Leave a Reply
Cancel ReplyRelated News
Popular News
VOTE FOR CHAMPION
fifa world cup 2026
Recent News
Get Latest News
Subscribe to our newsletter to get the latest news and exclusive updates.