news Breaking News
clock

خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، 11 ممالک کی 20 سے زائد تنظیموں کی شرکت

خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس، 11 ممالک کی 20 سے زائد تنظیموں کی شرکت

اسلام آباد (پ ر) 25 اکتوبر 2026: شراکت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام فونڈازیونے پینجیا (Fondazione Pangea) اور ویمن وِد آؤٹ وائلنس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن (WWVIF) کے اشتراک سے خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے پہلی سالانہ کانفرنس 23 سے 25 اکتوبر تک لوک ورثہ، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کو گلوبل افیئرز کینیڈا اور اے کے آر ایس پی کی جانب سے جزوی مالی معاونت فراہم کی گئی۔

کانفرنس میں 11 ممالک کی 20 سے زائد تنظیموں کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین، سماجی کارکنان، محققین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ اس کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور مشترکہ جدوجہد کے لیے اجتماعی وکالت کو مضبوط بنانا تھا۔

تین روزہ کانفرنس میں 1995 کے بیجنگ اعلامیے اور پلیٹ فارم فار ایکشن کے وژن کو آگے بڑھانے اور اس کے وعدوں کو موجودہ دور میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مستقبل کے لیے اہم ترجیحات پر گفتگو کی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں خواتین کو درپیش مسائل کو اجاگر کیا گیا۔

کانفرنس کے دوران صنفی عدم مساوات کے خاتمے، خواتین کی قیادت، فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی بامعنی شرکت اور خواتین و لڑکیوں کے خلاف تشدد کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی گئی۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو پالیسی سازی، ادارہ جاتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں میں مؤثر ترجیح دی جائے۔

مباحثوں میں موجودہ وعدوں پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے مؤثر حکمت عملی، اجتماعی کوششوں اور اداروں کی جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

کانفرنس میں مختلف ممالک اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کے نمائندگان کو اپنے تجربات اور خیالات کے تبادلے کا موقع ملا۔ اس موقع پر خواتین اور لڑکیوں کے متنوع تجربات، ضروریات اور ترجیحات کو تسلیم کرنے اور انہیں وکالت، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔

شرکاء نے گلوبل ساؤتھ کے تناظر میں مقامی ضروریات کے مطابق حکمت عملی اپنانے، سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان تعاون بڑھانے اور سب کی شمولیت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ کانفرنس میں حقوقِ نسواں کی تحریکوں اور سول سوسائٹی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا، جو امتیازی سماجی رویوں کو چیلنج کرنے، اداروں کو جواب دہ بنانے اور دیرپا مثبت تبدیلی کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

شراکت فاؤنڈیشن اور اس کے شراکت دار اداروں نے کانفرنس کے ذریعے حقوقِ نسواں کی تحریکوں کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے، مشترکہ وکالت کو فروغ دینے اور خواتین و لڑکیوں کے حقوق پر مبنی ایک جامع ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ طور پر عہد کیا کہ خواتین کے ایجنڈے کو مضبوط بنانے کے لیے یہ تین روزہ کانفرنس ہر سال انہی تاریخوں، یعنی 23 سے 25 اکتوبر تک، منعقد کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد مکالمے اور باہمی تعاون کے تسلسل کو برقرار رکھنا، حقوقِ نسواں کی تحریکوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا اور خواتین کے حقوق و صنفی مساوات کے لیے اجتماعی جدوجہد کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

کانفرنس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیجنگ اعلامیے کے مساوات، ترقی اور امن کے وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، تاکہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک زیادہ مساوی، جامع اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔

Leave a Reply

Cancel Reply

Your email address will not be published.

Related News

VOTE FOR CHAMPION

vote-image

fifa world cup 2026

34%
11%
30%
17%
2%
4%
0%
1%
0%

Recent Comment

E-Paper
Today's E-Paper
Loading...