قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے، برداشت کی قوت ختم ہو گئی ہے، معاملات بگڑتے چلے جارہے ہیں، جب لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف آرہا تھا تو پی ٹی آئی کے دوستوں نے مجھے کہا کہ اس میں آپ کا کوئی کردار ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے دن آپ تشریف لائے، رانا ثناء اللہ تھے ، اس موضوع پر تفصیلی بات ہوئی، رات کو وزیراعظم کے دفتر سے فون آیا کہ کھانے پر بلانا چاہتا ہوں، میں نے ان کی دعوت قبول کی، تفصیلی گفتگو ہوئی، اس کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ وہ لانگ مارچ کو کال آف کریں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ساڑھے دس بجے اسحق ڈار کا فون آیا کہ کابینہ نہیں مان رہی، ہم نے تو کوشش کی معاملے کو ٹھیک طریقے سے حل کیا جائے، وہاں پر گورنر راج بھی لگایا گیا اور ایمرجنسی بھی، حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو آئینی پروسیجر مکمل کیا ہے۔ سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت نے آئین کو غلط استعمال کیا ہے، طاقت کے ذریعے انتقال اقتدار کا عمل لایا گیا، آپ نے آرٹیکل 2 اے کو نظر انداز کیا ، غیر سیاسی اقدام کیا، کیا بلوچستان میں حالات اس سے خراب نہیں ہیں، وہاں پر کمشنر بھی اغوا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ خان آف قلات کے بیٹے کو بھی اغوا کر لیا گیا، کیا وفاق ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں کامیاب ہے، میری جماعت شہداء کی جماعت ہے، آپ مجھے طعنہ دیتے ہیں، ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا، آپ کو میرے شہداء نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور آپ ہمیں کہاں سمجھتے ہیں، آپ تشدد کی طرف جائیں گے تو تشد کا راستہ فرعون نے اختیار کیا تھا۔ اس دوران اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی تقریر سنوں گا، تقریر میں جو غیر پارلیمانی الفاظ ہوں گے انہیں حذف کر دوں گا، اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان کا ایک جملہ اجلاس کی کارروائی سے حذف کردیا۔
Leave a Reply
Cancel ReplyRelated News
Popular News
********
-
TENDER NOTICE
-
Oct 29, 2026
-
-
TENDER NOTICE
-
Oct 28, 2026
-
-
PRE-QUALIFICATION NOTICE
-
Oct 22, 2026
-
VOTE FOR CHAMPION
fifa world cup 2026
Recent News
Get Latest News
Subscribe to our newsletter to get the latest news and exclusive updates.