جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا انضمام اور قبائلی علاقوں کی موجودہ انتظامی صورت حال پر ان کے تحفظات کا جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا جواب الزام تراشی اور کردار کشی کے بجائے دلیل سے دیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض لوگ ان کے گھر کے کچن اور جنریٹر تک میں کرپشن تلاش کر رہے ہیں۔ پشاور میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا اینڈ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاسی ماحول کو الزام تراشی اور کردار کشی سے پراگندہ کرنے کے بجائے اختلافِ رائے کا جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور سیاسی رہنماؤں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات اور خدشات دور کرے۔ مولانا فضل الرحمان نے فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں اعلیٰ سطح کی شخصیات نے براہ راست بتایا ہے کہ انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور اب اسے ختم کرکے قبائلی علاقوں کی سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بقول ماضی میں انضمام کا فیصلہ ایک بڑی قوت کے کہنے پر کیا گیا تھا اور اب قبائلی علاقوں کو دوبارہ وفاق کے زیر انتظام لانے کی تجاویز کے پیچھے بھی کسی بڑی طاقت کا مفاد کارفرما ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فاٹا کے سیاسی مستقبل اور عوام کے آئینی حقوق کا معاملہ تھا، تاہم موجودہ صورت حال مختلف ہے اور اب بنیادی مسئلہ قبائلی علاقوں کے وسائل اور معیشت کا ہے۔
Leave a Reply
Cancel ReplyRelated News
Popular News
********
-
TENDER NOTICE
-
Oct 30, 2026
-
-
TENDER NOTICE
-
Oct 29, 2026
-
-
TENDER NOTICE
-
Oct 28, 2026
-
VOTE FOR CHAMPION
fifa world cup 2026
Recent News
Get Latest News
Subscribe to our newsletter to get the latest news and exclusive updates.